ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جارج کو استعفیٰ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے: سدرامیا

جارج کو استعفیٰ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے: سدرامیا

Fri, 27 Oct 2017 20:16:48    S.O. News Service

بنگلورو،27؍اکتوبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) ڈی وائی ایس پی ایم کے گنپتی کی مبینہ خود کشی کے معاملہ میں سی بی آئی کی طرف سے درج ایف آئی آر میں وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج کو کلیدی ملزم قرار دئے جانے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی جانچ کیلئے سی بی آئی کو تین ماہ کی مہلت دی ہے ، سی بی آئی تین ماہ میں اپنی جانچ مکمل کرکے عدالت کو رپورٹ پیش کرے ، اس رپورٹ میں اگر جارج قصور وار ہیں تو ان سے استعفیٰ لیا جائے گا، اس وقت تک جارج کے استعفیٰ کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ آج سی بی آئی کی طرف سے ایف آئی آر درج کئے جانے کے بعد جارج کی حمایت کرنے کے سلسلے میں ریاستی وزراء کی ایک میٹنگ کے بعد اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے جو حکم صادر کیا ہے اس میں کے جے جارج کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، اور نہ ہی عدالت عظمیٰ نے اس سلسلے میں سی آئی ڈی کی طرف سے جارج کو کلین چٹ دیتے ہوئے جو بی رپورٹ داخل کی ہے اس کا بھی تذکرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں کانگریس کی ساکھ کو متاثر کرنے کیلئے بی جے پی سی بی آئی کا غلط استعمال کررہی ہے، لیکن ریاستی کانگریس بی جے پی کو اس کیس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقع ہرگز نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی سی آئی ڈی جانچ کے مرحلے میں کے جے جارج کی طرف سے تحقیقات پر دباؤ ڈالے جانے کے خدشات کے پیش نظر جارج نے وزارت داخلہ سے استعفیٰ دیاتھا، اب چونکہ سی بی آئی جارج کے اختیار میں نہیں آتی وہ کارروائی کرنے کیلئے آزاد ہے اسی لئے جارج کو استعفیٰ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہوتے ہی جارج کے استعفیٰ کی مانگ درست نہیں ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مرکزی کابینہ میں ایسے آٹھ وزراء ہیں جن کے خلاف ایف آئی آر درج ہے ، پہلے وہ استعفیٰ دیں بعد میں جارج استعفیٰ دیں گے۔اسی طرح اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں پہلے وہ استعفیٰ دیں۔ جارج کے خلاف کل شام سی بی آئی کی طرف سے مرکیرہ کی عدالت میں ایف آئی آر درج کئے جانے کے بعد آج وزیراعلیٰ نے اپنے سینئر وزراء کو طلب کرکے ان تمام سے تفصیلی بات چیت کا سلسلہ شروع کیا اور طے کیا کہ ہر حال میں حکومت کے جے جارج کا بھرپور دفاع کرے گی، کسی بھی حال میں جارج کو مستعفی ہونے کیلئے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت نے بی جے پی کی طرف سے جارج کے مسئلے پر حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کو مرکزی کابینہ میں شامل ان وزراء کے حوالے سے ناکام بنانا طے کیا ہے جن کے خلاف کئی معاملات میں ایف آئی آر درج ہیں۔اس دوران آج صبح وزیر اعلیٰ نے ریاستی پولیس کے ڈائرکٹر جنرل آر کے دتہ کو طلب کرکے اس معاملے پر تبادلۂ خیال کیا۔ بی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک کے جے جارج وزارت سے استعفیٰ نہیں دیتے اس معاملے میں اس کی تحریک شدت اختیار کرے گی۔ آج وزیر اعلیٰ سدرامیا کی طرف سے طلب کی گئی میٹنگ میں سینئر وزراء جناب روشن بیگ، ڈی کے شیوکمار، ٹی بی جئے چندرا، ایم بی پاٹل، رمیش کمار ، رام لنکا ریڈی، کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور، کے پی سی سی کارگذار صدور دنیش گنڈو راؤ، ایس آر پاٹل اور دیگر موجود تھے۔

کے جے جارج کو استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں: پرمیشور
بنگلورو،27؍اکتوبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) ڈی وائی ایس پی گنپتی کی مبینہ خود کشی کے معاملے میں سی بی آئی کی طرف سے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ جب تک عدالت میں دائر نہیں کردی جاتی اس وقت تک ریاستی وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج کو استعفیٰ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات آج کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہی۔ وزیر موصوف کے خلاف کل اس معاملہ میں سی بی آئی کی طرف سے ایف آئی آر درج کئے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس معاملے کی جانچ کرتے ہوئے سی بی آئی نے کے جے جارج کو کلین چٹ دے دی ہے۔ اسی لئے سی بی آئی کی طرف سے ایک اور مرتبہ جانچ کرکے جب تک قطعی رپورٹ پیش نہیں کردیتی اس کے نتائج کا جائزہ لئے بغیر جارج سے استعفیٰ طلب کرنا زیادتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سی آئی ڈی نے اس معاملے کی جانچ کی تو جارج نے رضاکارانہ طور پر عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا، سی بی آئی اس معاملے کی جانچ کرے اور رپورٹ پیش کرے ، رپورٹ میں اگر واقعی جارج قصور وار ہیں تو کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے قومی صدر امیت شا کے خلاف کئی معاملات میں ایف آئی آر درج ہیں پہلے وہ اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیں ، اسی طرح مرکزی کابینہ کے متعدد وزراء کے خلاف بھی معاملات درج ہیں یہ وزرا استعفیٰ دیں، اور بعد میں بی جے پی جارج کے استعفیٰ کی مانگ کرے۔اس موقع پر موجود وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی نے کہاکہ مرکزی وزیر اننت کمار کے خلاف ہڈکو معاملے میں اور ہبلی کے رکن پارلیمان پرہلاد جوشی کے خلاف ایک اور معاملے میں سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کیا ہے یہ لوگ اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیں ، بصورت دیگر جب تک جانچ پوری نہیں ہوجاتی جارج کو استعفیٰ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔


Share: